اُلال26؍جون (ایس او نیوز) الال میں اتوار کو عید الفطر منائے جانے کے بعد ایک اور گروہ کی طرف سے مرکزی جمعہ مسجد میں دوسری بار پیر کے دن عیدکی نمازادا کرنے کے مسئلے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور مسجد کے احاطے میں ہی مسلمانوں کے بیچ تکرار اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔جس کے بعد پولیس کی مداخلت سے کشیدہ حالات پر قابو پالیا گیا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق سنیچر کو بھٹکل میں شوال کا چاند نظر آنے کی تصدیق کے بعد اڈپی اور منگلورو کے قاضی صاحبان نے صلاح و مشور ہ کے بعد اتوار کو عید الفطر منانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن الال کے قاضی کورت تھنگل نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اتوار کو روزہ رکھنے اور پیر کے روز عید منانے کا اعلان کردیا۔اسی پس منظر میں الال کی مرکزی جمعہ مسجد میں اتوار کو عید کی نماز ادا کرنے کے باوجود جب دوسرے دن پیر کی دوپہر کو الال کے قاضی تھنگل کی قیادت میں عید کی نمازادا کرنے کے لئے لوگ جمع ہونے لگے تو کچھ لوگوں نے مسجد کا دروازہ اندر سے بند کردیا۔ اس پر دوگروہوں کے درمیان تکرار اور ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ کشیدگی جب حد سے زیادہ بڑھ گئی تو پولیس نے مداخلت کی اور حالات کو قابو میں کیا۔جس کے بعد مسجد کا دروازہ کھول کر وہاں پہنچنے والوں کو عید کی نماز ادا کرنے کا موقع دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ ہاتھا پائی کے دوران الال ماستی کٹّے کے باشندے محمد رضوان (۲۸سال)کو کچھ معمولی چوٹیں بھی آئی تھیں،مگر اسے حادثاتی طور پر لگنے والی چوٹ کہہ کر معاملہ رفع دفع کردیا گیا۔